LIVE
Loading Breaking News...

FAAN کی آمدنی اور ایوی ایشن سیفٹی: ماہرین کی اہم تجاویز

News Image
ایک ممتاز ایوی ایشن ماہر نے ایوان نمائندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف اے اے این کو اپنی کمرشل آمدنی کا پانچ فیصد ایوی ایشن سیفٹی ایجنسیوں کے لیے مختص کرنے کا پابند بنایا جائے۔ یہ اقدام ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات کو جدید اور مستحکم بنانے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ایوی ایشن کے ایک معروف ماہر نے ایوان نمائندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ فیڈرل ایئرپورٹس اتھارٹی آف نائیجیریا (FAAN) کو یہ پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی کمرشل آمدنی کا پانچ فیصد حصہ براہ راست ایوی ایشن سیفٹی ایجنسیوں کو منتقل کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ فضائی سفر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ضروری آلات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی۔ موجودہ حالات میں فضائی تحفظ کے لیے درکار وسائل کی کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مالی خود مختاری اور فنڈز کا درست استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایئرپورٹس سے حاصل ہونے والی کمرشل آمدنی ایک خطیر رقم ہے، اگر اس کا ایک چھوٹا حصہ بھی سیفٹی ایجنسیوں کے حوالے کر دیا جائے تو تکنیکی خرابیاں دور کرنے اور عملے کی تربیت کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں رہے گی۔ اس تجویز کے تحت ایف اے اے این کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے تاکہ یہ فنڈز کسی اور مد میں استعمال ہونے کے بجائے صرف فضائی تحفظ اور مسافروں کی جان و مال کی حفاظت پر خرچ ہوں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر فضائی حفاظتی معیارات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ مزید برآں، ایوی ایشن کے امور کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تجویز صرف مالی منتقلی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ایک شفاف مانیٹرنگ کا نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ منتقل شدہ پانچ فیصد رقم واقعی ایوی ایشن سیفٹی کے لیے ہی استعمال ہو رہی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور کر لی جاتی ہے تو یہ نائیجیریا کے ایوی ایشن سیکٹر میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی۔ امید کی جا رہی ہے کہ ایوان نمائندگان اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گا اور قانون سازی کے ذریعے اسے نافذ کرنے کے اقدامات کرے گا تاکہ مسافروں کا فضائی سفر پر اعتماد مزید بحال ہو سکے۔