Health
جنوبی افریقہ کی غذائی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے 2012 سے نافذ غذائی اصول جدید سائنسی تحقیق اور بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے سامنے ناکافی ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی اور صحت کے تقاضوں کے پیش نظر ان ہدایات پر فوری نظر ثانی کی جائے۔
جنوبی افریقہ کے طبی ماہرین اور غذائی امور کے محققین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک کے غذائی رہنما خطوط (Dietary Guidelines) میں فوری طور پر تبدیلی کی جائے۔ یہ ہدایات آخری بار 2012 میں جاری کی گئی تھیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں طبی سائنس، انسانی خوراک کے رجحانات اور بیماریوں کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیاں ان پرانے اصولوں کو غیر مؤثر بنا چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جدید معاشرے میں صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیاں وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
اس وقت جنوبی افریقہ میں طرز زندگی سے جڑی بیماریوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جن میں موٹاپا، ذیابیطس اور امراض قلب شامل ہیں۔ ماہرین کا استدلال ہے کہ 2012 کے رہنما خطوط موجودہ دور کے جدید غذائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ نئی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ کچھ مخصوص غذائی عادات نہ صرف بیماریوں کو جنم دے رہی ہیں بلکہ صحت عامہ کے نظام پر بھی بوجھ بڑھا رہی ہیں۔ اس لیے ایک ایسی نئی قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو جدید سائنسی شواہد پر مبنی ہو اور عوام کو بیماریوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو۔
صرف بیماریوں کا پھیلاؤ ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی اور فوڈ سسٹمز کا آپس میں گہرا تعلق بھی ایک بڑا ایشو بن کر ابھرا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں غذائی پالیسیوں کو ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہو جائے گا۔ پائیدار زرعی پیداوار اور خوراک کی فراہمی کے طریقوں کو قومی غذائی رہنما خطوط میں شامل کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ عالمی سطح پر غذائی سائنس میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ایک وسیع تر مشاورت کا عمل شروع کرے تاکہ عوام کو بہتر اور متوازن خوراک کے بارے میں درست رہنمائی مل سکے۔
اس معاملے پر سرکاری حکام کی جانب سے فوری ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ طبی برادری کا ماننا ہے کہ اگر ان غذائی اصولوں کو اپ ڈیٹ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں صحت عامہ کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ عوام کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ غذائی پالیسی کو جدید تحقیقی ڈیٹا، موسمیاتی اثرات، اور مقامی آبادی کی غذائی ضروریات کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جائے۔