LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں قیدیوں کی جلد رہائی: پروبیشن افسران کی تشویش

News Image
انگلینڈ اور ویلز میں پروبیشن کے چیف انسپکٹر نے ہزاروں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کی کمی کے باعث یہ فیصلہ سنگین جرائم کا سبب بن سکتا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں پروبیشن کے چیف انسپکٹر نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ہزاروں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے حکومتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث کیے جانے والے اس فیصلے کے نتیجے میں عوامی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر مناسب نگرانی کا نظام موجود نہ ہوا تو رہا ہونے والے مجرم دوبارہ سنگین جرائم، بشمول جنسی تشدد، جسمانی حملے اور قتل جیسے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پروبیشن افسران کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ورک لوڈ کے باعث عملہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ افسران نے نشاندہی کی کہ پروبیشن سروس کے پاس ان ہزاروں افراد کی مناسب نگرانی کرنے کے لیے وسائل کی شدید قلت ہے جنہیں جیل سے جلد رہا کیا جا رہا ہے۔ جب کسی مجرم کو مقررہ مدت سے پہلے رہا کیا جاتا ہے تو اسے معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے اور اس کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے ایک مضبوط نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس وقت عملے کی کمی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے سنگین سماجی نتائج نکل سکتے ہیں۔ اگر نگرانی کے نظام میں معمولی سی کوتاہی بھی ہوتی ہے تو یہ عوامی حفاظت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ محض جیلوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے عوامی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کرے، بلکہ پروبیشن سروس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فوری طور پر اضافی فنڈز اور عملے کی بھرتی کو یقینی بنائے۔ اس معاملے پر قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے کہ کیا جیلوں کی گنجائش کے بحران کا حل مجرموں کی قبل از وقت رہائی ہی ہے یا پھر اس کے لیے متبادل سزاؤں اور اصلاحی نظام میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ فی الحال، پروبیشن افسران کی یہ وارننگ برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔