Business
خام تیل کی قیمتوں میں کمی، مشرق وسطیٰ کا بحران اور معاشی اثرات
مسلسل پانچ دن کے اضافے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی کمزور طلب کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی رسد کے خدشات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔
عالمی منڈی میں مسلسل پانچ روز تک تیزی کا رجحان رہنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتیں اس سیشن میں نیچے آئیں کیونکہ عالمی سطح پر طلب کا کمزور آؤٹ لک مشرق وسطیٰ سے پیدا ہونے والے رسد کے خدشات پر بھاری پڑتا دکھائی دیا۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا قلیل مدتی بنیادوں پر تیل کی مارکیٹ میں استحکام آ سکے گا یا نہیں۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی کشیدہ سیاسی صورتحال اور بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان زبانی جنگ اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے پیدا ہونے والے تناؤ نے تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کا اصرار ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے تو دوسری طرف ایران کی جانب سے جنگ طول پکڑنے کے بیانات نے مارکیٹ کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور جغرافیائی سیاسی تنازعات تیل کی منڈی کو مسلسل متلاطم رکھ رہے ہیں، تاہم عالمی معیشت میں طلب کی سست روی اور مالیاتی خسارے کے امکانات بھی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان تمام عوامل کی موجودگی میں آنے والے دنوں میں توانائی کے شعبے اور تیل کی عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سرمایہ کار ہر نئی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔