World
امریکہ کا برازیل کے انتخابات میں مداخلت کا نیا طریقہ کار سامنے آ گیا
امریکہ کی جانب سے برازیل کے بعض گروہوں کو دہشت گرد قرار دینے کا مقصد ملکی سیاست اور سکیورٹی امور میں مداخلت کو وسعت دینا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک کے داخلی امور میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ اب برازیل کے اندرونی سیاسی اور انتخابی عمل میں مداخلت کے لیے 'دہشت گرد' کے لیبل کا دانستہ استعمال کر رہا ہے۔ اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد لاطینی امریکہ کے اس اہم ملک میں اپنی گرفت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔واشنگتن کی جانب سے پی سی سی (PCC) اور سی وی (CV) جیسی تنظیموں یا عناصر کو دہشت گردی کے زمرے میں نامزد کرنے کا مقصد محض امن و امان کا قیام نہیں ہے، بلکہ اس کے پس پردہ وسیع تر سیاسی عزائم پوشیدہ ہیں۔ ان فیصلوں کے ذریعے برازیل کے سکیورٹی ڈھانچے اور ریاستی پالیسیوں میں واشنگتن کی براہِ راست رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے، جو ملکی خودمختاری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔برازیل کے اندر اس امریکی رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کا ماننا ہے کہ بیرونی طاقتوں کا اس طرح کے حساس اور متنازع لیبلز کا استعمال دراصل جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی اس قسم کے دباؤ میں اضافہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بیرونی قوتیں اپنے پسندیدہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈا استعمال کرنے سے دریغ نہیں کر رہیں۔امریکہ اور برازیل کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی اس بات کی متقاضی ہے کہ لاطینی امریکی ممالک اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اگر واشنگتن کی اس مداخلت پسندانہ پالیسی کو نہ روکا گیا تو یہ خطے میں مزید سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔