LIVE
Loading Breaking News...

ناروے کی جانب سے پاکستان کے سفارتی اور مصالحتی کردار کی تعریف

News Image
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور مشرق وسطیٰ کے تنازع میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ دونوںممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان اہم وفد کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ، جو کہ ایک دہائی کے طویل عرصے بعد پاکستان کے دورے پر تشریف لائے ہیں، نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان کے اہم اور تعمیراتی کردار کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کے فروغ کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ عالمی امن اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوںممالک کے وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، بحری امور اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا احاطہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ناروے کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور خوشگوار ہیں۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری موجود ہے اور ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس رشتے کو مضبوط کرنے میں ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے، کیونکہ ناروے کے معاشرے اور سیاست میں پاکستانی نژاد افراد نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خطے کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے ناروے کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور پاکستان کی جانب سے ثالثی اور امن کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے دوران پاکستان کی عالمی سطح پر پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور ناروے اس عمل میں مکمل تعاون کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ مذاکرات میں توانائی اور فرٹیلائزر کے شعبوں میں نارویجن کمپنیوں کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا گیا اور باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دورے کے آغاز پر دونوں وزرائے خارجہ نے محدود شکل میں بھی ملاقات کی تھی جس میں باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے حکام اور ناروے کے وفد کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ اس دورے سے دونوںممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو نئی جلا ملے گی اور مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔