LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں گیس پائپ لائن دھماکہ، کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں سپلائی معطل

News Image
بولان کے علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق سکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
کوئٹہ (نیکسٹورا نیوز اردو) بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں نامعلوم افراد کی جانب سے مرکزی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت کئی شہروں اور قصبوں کو گیس کی فراہمی معطل ہو گئی۔ اس ناخوشگوار واقعے نے سرد موسم میں شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ دھماکہ بولان کے دریائے خشک کے علاقے گورکاٹ کے قریب کے ایم پی 246 والو اسمبلی پر ہوا۔ یہ مقام مرکزی کوئٹہ سبی روڈ سے تقریباً سات سے آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نامعلوم ملزمان نے دریا کے بستر میں پائپ لائن کے نیچے بارودی مواد نصب کیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑایا گیا۔ اٹھارہ انچ چوڑی اس گیس پائپ لائن کے دھماکے کی زد میں آنے سے شدید نقصان پہنچا ہے اور دور دور تک شعلے اور دھواں اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ ترجمان ایس ایس جی سی کا مزید کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد کولپور، مچھ، مستونگ، قلات، پشین، زیارت اور کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو شدید دباؤ میں کمی یا مکمل بندش کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرمت کرنے والی تکنیکی ٹیمیں تمام آلات کے ساتھ تیار ہیں لیکن متاثرہ علاقے میں جانے سے قبل سکیورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرنس ملنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی واقعے سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ صوبے میں گیس تنصیبات پر حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے درہ بگٹی اور صحبت پور کے اضلاع میں گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے نشانہ بنایا تھا جس سے وسیع تر علاقے میں سپلائی متاثر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مارچ کے مہینے میں بھی کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کے قریب مرکزی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔ سکیورٹی اداروں نے ان تمام واقعات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ جلد از جلد گیس کی بحالی کا کام مکمل کیا جا سکے۔