Pakistan
لاہور کے تمام تھانوں میں خواتین پولیس افسران کی چوبیس گھنٹے تعیناتی کا فیصلہ
لاہور پولیس نے خواتین کے مسائل کے فوری حل اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شہر بھر کے تمام تھانوں میں خواتین پولیس افسران کو چوبیس گھنٹے تعینات کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے خواتین سائلین کو تھانوں میں پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور وہ بلاجھجھک اپنی شکایات درج کرا سکیں گی۔
لاہور پولیس نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور تھانہ کلچر میں بہتری لانے کی غرض سے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ شہر کے تمام پولیس اسٹیشنز میں اب خواتین پولیس افسران کو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا تاکہ تھانے آنے والی خواتین کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد خواتین کی شکایات کا فوری ازالہ کرنا اور انہیں ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔
حالیہ احکامات کے مطابق، ہر تھانے میں تعینات یہ خواتین افسران دن رات چوبیس گھنٹے موجود رہیں گی اور گھریلو تشدد، ہراسانی اور دیگر جرائم کی شکار خواتین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر سنیں گی۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے پولیس اور عوام بالخصوص خواتین کے درمیان فاصلے کم ہوں گے اور تھانے آنے میں پائے جانے والے خوف کا عنصر بھی ختم ہو جائے گا، جس سے انصاف کے حصول میں مدد ملے گی۔
محکمہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو مؤثر بنانے کے لیے خواتین افسران کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ تفتیش اور سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی کے معاملات کو پیشہ ورانہ انداز میں چلا سکیں۔ شہر کے تمام ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نئے نظام پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور باقاعدگی سے اس کی نگرانی کریں۔
عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے لاہور پولیس کے اس قدم کو بے حد سراہا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی کو درست انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ معاشرے میں خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام اور انہیں فوری انصاف دلانے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ پولیس حکام پر امید ہیں کہ اس اصلاحات کے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آئیں گے۔