LIVE
Loading Breaking News...

افغان یونیورسٹیوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد

News Image
افغانستان کی جامعات میں طلباء پر اسمارٹ فونز کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل رسائی اور ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ملک بھر کی جامعات میں زیر تعلیم طلباء کو اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے نافذ کردہ اس نئے ضابطے کے تحت طلباء کو کیمپس کے اندر اسمارٹ فونز ساتھ لانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے نے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ جدید دور میں اسمارٹ فونز نہ صرف مواصلات بلکہ تعلیمی تحقیق اور آن لائن کلاسز کا بھی ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ پابندی کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس سے طلباء کا پورا دھیان صرف پڑھائی پر مرکوز رہے گا اور وہ غیر ضروری سرگرمیوں سے محفوظ رہیں گے۔ دوسری جانب، ناقدین اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے طلباء کی علمی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو جائے گی، جو کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اس پابندی کے نفاذ کے بعد جامعات کے اندر سخت نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ اس اصول کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ طلباء اور ان کے والدین کو بھی اس سلسلے میں تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ وہ احکامات کی پاسداری کریں۔ اس فیصلے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاہم فی الحال افغان طلباء کے لیے جامعات میں داخلہ اور تعلیمی سرگرمیاں مزید چیلنجنگ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔