LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں مکمل سورج گرہن: تاریخ کا نایاب فلکیاتی نظارہ

News Image
یورپ اور برطانیہ میں لاکھوں افراد نے کئی دہائیوں کے بعد ہونے والے پہلے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا جس نے دن کے وقت کو رات میں تبدیل کر دیا۔ ماہرین اور شائقین نے اس نایاب فلکیاتی واقعے کو بے حد حیرت انگیز قرار دیا ہے۔
برطانیہ اور یورپ کے بیشتر حصوں میں کئی دہائیوں کے بعد پہلا مکمل سورج گرہن دیکھا گیا ہے جس کے باعث دن کے وقت اچانک اندھیرا چھا گیا اور لاکھوں افراد اس نایاب نظارے سے محظوظ ہوئے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس تاریخی فلکیاتی واقعے کو دیکھنے کے لیے ہزاروں شائقین سڑکوں اور کھلے مقامات پر موجود تھے جنہوں نے اس لمحے کو اپنے کیمروں میں محفوظ کیا۔ اسپین سمیت کئی یورپی ممالک میں اس مکمل سورج گرہن کے دوران عجیب و غریب خاموشی اور خنکی محسوس کی گئی، جو کہ اس سائنسی مظہرے کا ایک خاص حصہ ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر اہم خبر رساں ذرائع کے مطابق یہ ایک ایسی نسل میں ہونے والا پہلا بڑا واقعہ تھا جس نے عوام اور ماہرین فلکیات دونوں کو یکساں طور پر حیران کر دیا۔ ناسا اور دیگر سائنسی اداروں نے اس گرہن کے حوالے سے پہلے ہی تفصیلی ہدایات جاری کر رکھی تھیں تاکہ لوگ محفوظ طریقے سے خصوصی چشموں کی مدد سے اس کا نظارہ کر سکیں۔ اسپین کے مختلف شہروں میں تو سورج گرہن کا دورانیہ اتنی اچھی طرح دکھائی دیا کہ وہاں کے مناظر نے دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیا۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مکمل سورج گرہن صدیوں میں چند بار ہی کسی مخصوص خطے سے گزرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بار یورپ میں اس کیلیے انتہائی جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی یہ دن محققین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا کیونکہ اس دوران کرہ ارض کے ماحول اور سورج کے کورونا کا بغور مشاہدہ کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں سائنسی موضوعات اور فلکیات میں عام لوگوں کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔