World
افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام اور انتہا پسندی، نئی رپورٹ جاری
ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا موجودہ تعلیمی نظام معاشرے میں انتہا پسندی اور عسکری ذہنیت کو فروغ دے رہا ہے۔ اس تعلیمی بحران کے باعث لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں اور خواتین کے بنیادی حقوق شدید خطرے میں ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے زیرِ اثر چلنے والے تعلیمی نظام پر جاری ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انتہائی تشویشناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے نافذ کردہ تعلیمی ڈھانچہ معاشرے میں انتہا پسندی اور عسکری ذہنیت کو گہرا کرنے کا سبب بن رہا ہے، جس سے ملک کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں جاری ان پابندیوں نے نہ صرف نوجوان نسل بالخصوص طالبا ت کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یونسکو کے اعداد و شمار کے مطابق، طالبان کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نتیجے میں تقریباً چوبیس لاکھ (2.4 ملین) بچیاں سکول جانے سے قاصر ہیں اور ان کا تعلیمی کیریئر داؤ پر لگ چکا ہے۔ دوسری طرف خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی روزمرہ زندگی کے حوالے سے صورتحال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین کو عملی طور پر عوامی زندگی سے مٹا دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے دروازے لڑکیوں پر بند ہونے کی وجہ سے ان کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں اور وہ ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے محروم ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے اور تمام شہریوں کے لیے مساوی اور جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تعلیمی نظام میں اصلاحات نہ لائی گئیں اور عسکری رجحانات کو ہوا دی جاتی رہی تو اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔