World
اسرائیل اور لبنان مذاکرات روم میں، امریکہ ثالثی کرے گا
اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات آئندہ ہفتے روم میں منعقد ہوں گے۔ اس اہم بیٹھک میں دونوں فریقین کے مابین دیرینہ مسائل اور سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے مابین امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ کے آغاز میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہوگا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دونوں پڑوسی ممالک کے وفود شرکت کریں گے تاکہ سرحد پار تنازعات، سیکیورٹی کے امور اور باہمی مسائل کے پرامن حل کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا تصادم سے بچا جا سکے۔ امریکی سفارتی حکام اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور فریقین کو ایک مشترکہ نکتے پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ روم میں ہونے والی اس بیٹھک سے خطے کے مبصرین اور عالمی رہنماؤں کی توقعات وابستہ ہیں کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اگرچہ ماضی میں بھی اس قسم کے مذاکرات ہوتے رہے ہیں، تاہم موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس دور کی اہمیت دوچند ہو چکی ہے، کیونکہ اس میں فریقین کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطوں کو بحال رکھنے پر خاص زور دیا جائے گا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں بنیادی طور پر سرحدی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ تمام متعلقہ فریقین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ روم میں ہونے والی یہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گی۔