Business
برطانوی معیشت میں ترقی، ماہرین کی معاشی چیلنجز کی وارننگ
برطانوی معیشت میں اپریل سے جون کی مدت کے دوران صفر اعشاریہ چار فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ کی معیشت میں اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران صفر اعشاریہ چار فیصد کی معمولی لیکن تسلی بخش شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق سال کے اس حصے میں ملک کے مختلف کاروباری اداروں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں خوشگوار اور گرم موسم کے علاوہ کچھ اہم کھیلوں کے انعقاد بھی شامل ہیں۔ ان عوامل نے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جون کے مہینے کے دوران خاص طور پر سیاحت، ہوٹلنگ اور ریٹیل کے شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس کے اثرات مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اگرچہ ایک خوش آئند اشارہ ہیں، تاہم اس سے معیشت کی مکمل بحالی کا یقین نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو اب بھی کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے جن پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔ دوسری جانب، اقتصادی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں برطانوی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ، شرح سود میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی منڈیوں میں عدم استحکام کی وجہ سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی حلقوں کی جانب سے حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرے تاکہ معیشت کو کسی بھی ممکنہ بڑے جھٹکے سے محفوظ رکھا جا سکے اور ترقی کا یہ سفر بلا تعطل جاری رہ سکے۔