World
امریکہ میں ایک ہی دن تین ریاستوں میں سزائے موت
امریکہ کی تین ریاستوں میں سنہ 2010 کے بعد پہلی بار ایک ہی دن سزائے موت دی جائے گی۔ اس سے قبل ایسے واقعات ماضی میں لوزیانا، اوہائیو اور ٹیکساس میں پیش آ چکے ہیں۔
امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے جہاں تین مختلف امریکی ریاستوں میں ایک ہی دن سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ سنہ 2010 کے بعد اتنی بڑی تعداد میں ریاستیں بیک وقت سزائے موت کے احکامات پر عمل کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ملک میں سزائے موت کے قانونی، اخلاقی اور انسانی حقوق کے تنازعات کو تازہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور مقررہ تاریخ پر عدالتی فیصلوں کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس طرح بیک وقت مختلف ریاستوں میں سزائے موت کا نفاذ انتہائی نایاب ہے اور اس پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی گہری نظر ہے۔ یاد رہے کہ آخری بار اس قسم کا واقعہ تقریباً سولہ سال قبل پیش آیا تھا جب لوزیانا، اوہائیو اور ٹیکساس کی ریاستوں میں ایک ہی دن میں مجرموں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ اس وقت بھی اس فیصلے پر ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی تھی اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس عمل پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ حالیہ اعلان کے بعد ایک بار پھر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار اور اس کے جواز پر نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ حکام اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ یہ فیصلے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔