World
امریکہ منشیات کے کارٹلز کو داعش کی طرح نشانہ بنائے گا
امریکہ کے دفاعی حکام نے اعلان کیا ہے کہ منشیات کے بین الاقوامی کارٹلز کو دہشت گرد تنظیم داعش کی طرح نشانہ بنایا جائے گا۔ اس سخت لائحہ عمل کا مقصد ملک میں منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے دفاعی حلقوں کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور سخت پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی منشیات کے کارٹلز کے خلاف روایتی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں عسکری طرز پر نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک قومی سلامتی کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ بن چکے ہیں جتنا کہ دہشت گرد تنظیمیں تھیں۔ اس نئے عزم کا مقصد ان مجرمانہ گروہوں کی مالی اور عسکری طاقت کو مکمل طور پر درہم برہم کرنا ہے۔ دفاعی حکام نے واضح کیا ہے کہ اب منشیات کے ان کارٹلز کے ساتھ عام مجرموں جیسا نہیں بلکہ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ بین الاقوامی سطح پر اس اعلان کے بعد منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ایک نئے اور جارحانہ باب کا آغاز متوقع ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں میں سرگرم کارٹلز کو شدید دھچکا لگے گا۔ امریکی وزارت دفاع اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی تیار کر رہی ہے تاکہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے راستوں کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے، جس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔