LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں فلسطینی خاندان کا گھر مسمار، کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں عدالتی حکم کے باوجود ایک فلسطینی خاندان کے گھر کو مسمار کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ خاندان شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے۔ متاثرہ افراد نے اس کارروائی کو ظلم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی المیے کا ایک اور دردناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک فلسطینی خاندان کا گھر عدالتی احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسمار کر دیا گیا۔ اس ظالمانہ کارروائی کے نتیجے میں پورا خاندان شدید گرمی کے عالم میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے اور ان کا سر سے چھت کا سایہ چھن گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ اس قسم کی ناانصافی روا رکھی جائے گی، خاص طور پر اس وقت جب معاملہ عدالت میں زیرِ غور تھا اور اس سلسلے میں احکامات بھی موجود تھے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اس اچانک انہدمی کارروائی نے انہیں ذہنی و جسمانی طور پر توڑ کر رکھ دیا ہے۔ شدید گرم موسم کے دوران بچوں اور خواتین سمیت پورا خاندان کھلے آسمان تلے بیٹھا ہے جہاں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاندان کے ایک بزرگ رکن نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ہمارا سب کچھ چھین لیا ہے۔ اس واقعے نے مقامی آبادی میں بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی سے روزمرہ کی پابندیوں اور مشکلات کا شکار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں اور معصوم شہریوں کو شدید مصائب میں دھکیلتے ہیں۔ مقامی لوگوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے متاثرہ خاندان کی امداد کے لیے اپیل کی ہے جبکہ اس معاملے پر فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔