LIVE
Loading Breaking News...

براڈ پیک حادثہ: پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

News Image
براڈ پیک کے مہلک برفانی تودے کے حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مقامی رضاکاروں نے تلاش کر کے بیس کیمپ پہنچا دی ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق، دیگر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا عمل موسم بہتر ہونے پر دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
الپائن کلب آف پاکستان (ACP) نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ براڈ پیک پر آنے والے مہلک برفانی تودے کے بعد لاپتہ ہونے والے دس رکنی مہم جو گروپ میں شامل پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش برآمد کر لی گئی ہے اور اسے پہاڑ کے بیس کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تباہ کن برفانی تودہ رواں برس تیس جولائی کو گرا تھا جس کے نتیجے میں برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پورجا کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی مہم جو ٹیم کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بعد ازاں نرمل پورجا کی کمپنی نے تصدیق کی تھی کہ اس حادثے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا اور مجموعی طور پر سات کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئی تھیں۔تاہم، خراب موسم اور برفانی تودے کے دوبارہ گرنے کے شدید خطرات کے باعث امریکی کوہ پیما سارہ میلوری گیس، نیپالی کوہ پیما نوانگ تھندو شرپا اور پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی تلاش کا آپریشن پچھلے ہفتے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز الپائن کلب آف پاکستان کی رکن نیلہ کیانی نے بتایا کہ سہیل سخی کی لاش کو شگر سے تعلق رکھنے والے مقامی رضاکاروں کی ایک ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رضاکاروں محمد ندیم، محمد بشیر اور ابوذر نے سب سے پہلے لاش کو دیکھا اور دیگر افراد کو مطلع کیا۔ اس کے بعد ان رضاکاروں نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر لاش کو کیمپ ون سے کامیابی کے ساتھ بیس کیمپ تک پہنچایا۔اے سی پی کے سیکرٹری جنرل ایاز شگری نے بتایا کہ سہیل سخی کی لاش کو براڈ پیک بیس کیمپ لایا جا چکا ہے جہاں سے موسم کی اجازت ملنے پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسے سکردو منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک دو دیگر لاپتہ کوہ پیماؤں کی لاشیں نہیں مل سکیں، جن کی تلاش کا کام موسمی حالات بہتر ہونے اور علاقے کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ مقامی رضاکاروں نے سہیل سخی کی لاش کو چھپن سو میٹر کی بلندی سے تلاش کیا، جو کوہ پیمائی کی تاریخ میں رضاکارانہ جذبے کی ایک بڑی مثال ہے۔