Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان، پیٹرول سستا
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 94 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 54 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات سے کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
وفاقی حکومت نے ملکی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں 94 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 54 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اب پٹرول 324 روپے 98 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 382 روپے 79 پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہوگا۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں جمعرات کے روز سے نافذ العمل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کی شرح سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کرتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ماضی میں نمایاں اضافے دیکھے گئے تھے۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے پہلے ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں جاری کشیدگی اور قیمتوں کے تناظر میں اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس سے قبل حکومت مارچ کے اوت سے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل کر رہی تھی تاکہ تیل کی ممکنہ سپلائی میں خلل اور عالمی بحران سے نمٹا جا سکے۔ وفاقی حکومت نے اوگرا کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا فیصلہ کرے، تاہم روزانہ کی اس قیمت کے تعین کے فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسترد کیا جا چکا ہے اور احتجاج کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مصنوعات ہیں جن کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن تک ہے۔ پٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، چھوٹے موٹر ساگلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے جس سے متوسط طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ اور پاور پلانٹس میں کیا جاتا ہے۔