LIVE
Loading Breaking News...

گرپتونت سنگھ پنّو کا مودی حکومت پر سکھوں کی نسل کشی کا الزام

News Image
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنّو نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر سکھوں کی منظم نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے۔ انڈینڈیاناپولس میں ہونے والی ایک ریلی کے دوران خالصتان ریفرنڈم کے لیے مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) کے رہنما گرپتونت سنگھ پنّو نے ایک بار پھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے سکھوں کی منظم نسل کشی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ بیانات انڈینڈیاناپولس میں منعقدہ ایک بڑی ریلی کے دوران سامنے آئے، جہاں شرکاء نے خالصتان ریفرنڈم کے لیے اپنی حمایت کا کھل کر اظہار کیا اور تحریک کو مزید آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس ریلی کا بنیادی مقصد خالصتان ریفرنڈم کے لیے حمایت حاصل کرنا اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی حکومت کی مبینہ اقلیت دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکھ برادری اپنے بنیادی حقوق اور خود ارادیت کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی، اور دنیا بھر میں اس حوالے سے آواز بلند کی جارہی ہے۔ دوسری جانب، بھارتی میڈیا اور دفاعی حلقوں کی جانب سے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ خالصتان حامی عناصر کی جانب سے بھارت کے اتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور ملک کی سالمیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم اور سکھ رہنماؤں کے بیانات نے ایک بار پھر نئی دہلی اور سکھDiaspora کے درمیان کشیدہ تعلقات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔