Technology
آئی فون 18 میں ریم میں نمایاں اضافہ اور نئی ٹیکنالوجی کی تفصیلات
آنے والے آئی فون 18 کے ماڈلز میں ریم کی گنجائش میں خاطر خواہ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایپل کو اس تبدیلی کے ساتھ پیداواری لاگت میں اضافے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ایپل کی آنے والی نئی جنریشن یعنی آئی فون 18 سیریز میں ریم (RAM) کی گنجائش میں ایک بڑا اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ماہرین اور انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کی جانب سے یہ قدم جدید ترین فیچرز اور مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ریسرچ فرمز اور سپلائی چین کے ذرائع کے مطابق، آئی فون 18 پرو کے پارٹس کی مجموعی لاگت میں قریباً چالیس فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ اس بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باوجود، ایپل کمپنی اپنے منافع کے مارجن کو قربان کرتے ہوئے شپمنٹ کے حجم کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ صارفین میں ڈیوائس کی رسائی متاثر نہ ہو۔
اس کے علاوہ، آئی فون 18 پرو کے حوالے سے یہ بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اس میں کیمرے کے تین بڑے اپ گریڈز بھی متعارف کروائے جائیں گے، جو کہ فوٹوگرافی کے تجربے کو مزید شاندار بنا دیں گے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ان تبدیلیوں کو لے کر کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور صارفین کی جانب سے اس نئی سیریز کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ایپل کی جانب سے روایتی طور پر ستمبر کے مہینے میں ہی نئی مصنوعات کی رونمائی کی جاتی رہی ہے، لیکن اس بار کچھ مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ شیڈول میں کچھ رد و بدل ہو سکتا ہے۔ بہرحال، ریم اور کیمرے کی بہتری سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایپل اپنے فلیگ شپ فونز کو مزید طاقتور بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔