LIVE
Loading Breaking News...

میک او ایس بمقابلہ ونڈوز: سبر خطرات کی تازہ ترین رپورٹ

News Image
حالیہ رپورٹس کے مطابق میک او ایس استعمال کرنے والے صارفین نے سبر خطرات کی تعداد میں ونڈوز صارفین سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سبر سکیورٹی کے چیلنجز اب کسی ایک آپریٹنگ سسٹم تک محدود نہیں رہے۔
سبر سکیورٹی کی دنیا میں ایک دلچسپ اور غیر متوقع رجحان سامنے آیا ہے جس کے مطابق میک او ایس (macOS) استعمال کرنے والے صارفین نے ونڈوز (Windows) صارفین کے مقابلے میں زیادہ سبر خطرات کی اطلاعات دی ہیں۔ عام طور پر روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ونڈوز سسٹمز پر سبر حملے اور وائرسز زیادہ ہوتے ہیں، لیکن حالیہ اعداد و شمار نے اس تاثر کو کسی حد تک چیلنج کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں اور سکیورٹی فرمز کی رپورٹس کے مطابق میک او ایس سسٹمز پر بھی اب خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ونڈوز پر مالویئر کا خطرہ میک او ایس کے مقابلے میں گنتی کے لحاظ سے زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم میک او ایس صارفین کی جانب سے رپورٹ کیے جانے والے مجموعی سبر خطرات اور رسک ویئر (Riskware) کی تعداد نے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ میک او ایس کے بڑھتے ہوئے مقبولیت اور صارفین کی تعداد میں اضافہ بھی ہے، جس کی وجہ سے ہیکرز اور سبر مجرم اب ایپل کے پلیٹ فارمز کو بھی اپنے حملوں کے لیے نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرینِ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ٹروجنز (Trojans) اور دیگر رسک ویئر دونوں آپریٹنگ سسٹمز پر پائے جاتے ہیں، لیکن میک او ایس صارفین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا نظام مکمل طور پر محفوظ ہے، جس کی وجہ سے وہ احتیاطی تدابیر میں غفلت برتتے ہیں۔ اس سوچ کی وجہ سے انہیں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کے ماہرین نے تمام کمپیوٹر صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھیں اور قابلِ اعتماد اینٹی وائرس سافٹ ویئر کا استعمال یقینی بنائیں، چاہے وہ کوئی سا بھی آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہوں۔