World
یمن میں فوجی کشیدگی، تعز میں حوثی حملہ ناکام
یمنی فورسز نے ملک کے صوبہ تعز میں حوثی جنگجوؤں کا ایک اور حملہ کامیابی سے پسپا کر دیا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں سرکاری افواج کی طرف سے حوثی پوزیشنز پر حملوں کے اعلان کے بعد جاری کشیدگی کا حصہ ہیں۔
یمنی فوج نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم صوبہ تعز میں حوثی باغیوں کا ایک بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں فریقین کی جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا، تاہم یمنی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حوثی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمنی حکومت کی جانب سے حوثی پوزیشنز کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے اعلان کو کئی دن گزر چکے ہیں اور ملک بھر میں عسکری کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، فریقین کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے جاری محاذ آرائی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے جس کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی فوج صوبے کے مختلف محاذوں پر پوزیشنز کو مستحکم کرنے کے لیے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے اور حالیہ دنوں میں حوثیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری جانب، علاقائی اور بین الاقوامی برادری نے یمن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عسکری کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دیرپا امن کی راہ ہموار کی جائے۔ تاہم، زمینی حقائق کے پیش نظر فی الحال دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور آنے والے دنوں میں لڑائی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔