Business
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، امریکی ایرانی کشیدگی میں کمی کا اثر
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں عارضی وقفے اور کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال سے سرمایہ کاروں کو کچھ سکون ملا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں رسد کے بحران کا خطرہ فی الحال ٹلتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ اور ہفتے کے دوران زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمتیں آٹھ فیصد سے زائد گر چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ گراوٹ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی میں عارضی وقفے اور عسکری کارروائیوں کے تھمنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے بیانات میں نرمی اور مذاکرات کے حوالے سے مخلوط پیغامات دیے گئے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو یہ امید بندھی ہے کہ خطے میں بڑی جنگ کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب افراط زر دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کے تنازع کا براہ راست اثر تیل کی سپلائی لائنز پر پڑتا ہے، اور جب بھی اس خطے میں امن کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے، منڈی فوراً مثبت ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر اور ایرانی حکام کی جانب سے دی جانے والے بیانات نے منڈی کے ہیجان کو کافی حد تک قابو میں رکھا ہے۔
تاہم، ماہرینِ اقتصادیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مندی وقتی یا عارضی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ مستقبل میں تیل کی قیمتوں کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کس سمت جاتے ہیں اور آیا اوپیک (OPEC) کے ممالک پیداوار کے حوالے سے کیا نئی پالیسی اپناتے ہیں۔ عام صارفین اور صنعت کاروں نے تیل کی قیمتوں میں اس کمی کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس کے اثرات جلد مقامی منڈیوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نظر آئیں گے۔