World
مغربی کنارے میں آباد کاروں کا محاصرہ، امریکی سفارتکار کا ردعمل
امریکہ کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کے گھروں پر صیہونی آباد کاروں کے محاصرے کو دہشت گردی کا فعل قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں آباد کاروں نے تین فلسطینی خاندانوں کے گھروں کو باہر سے بند کر کے انہیں خوراک اور بنیادی سپلائی سے محروم کر دیا تھا۔
امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی سفارتکار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں پیش آنے والے ایک تشویشناک واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صیہونی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے محاصرے کو دہشت گردی کا عمل قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے قصرا میں پیش آیا جہاں انتہا پسند صیہونی آباد کاروں نے تین فلسطینی خاندانوں کے گھروں کو زبردستی گھیر لیا اور انہیں باہر سے مکمل طور پر بند کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق اس ظالمانہ محاصرے کے نتیجے میں متاثرہ فلسطینی خاندان اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جبکہ ان کا رابطہ بیرونی دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ آباد کاروں کی جانب سے اس ناکہ بندی کے باعث ان خاندانوں کو خوراک، پانی اور دیگر اشیاءِ ضرورت کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی، جس سے وہاں انسانی بحران جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس بزدلانہ اقدام کا مقصد فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنا اور انہیں اپنی آبائی زمینوں سے جبری بے دخل کرنا ہے۔
عالمی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی قابض حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ امریکی سفارتکار کی جانب سے اس واقعے کو کھل کر دہشت گردی قرار دینا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر قانونی بستیوں کے مکینوں کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
مقامی فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بین برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس طرح کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو کس قدر شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں روزمرہ کی زندگی میں کتنی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔