LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر پولیس: جے اے اے سی پر انتخابی ڈیوٹی کے اہلکار اغوا کرنے کا الزام

News Image
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابی ڈیوٹی پر موجود آٹھ ہائی وے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) پولیس نے جمعرات کے روز ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے انتخابی ڈیوٹی پر مامور آٹھ ہائی وے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے ترجمان خاور علی شوکت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس تنظیم نے خطے میں الیکشن کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے ان اغوا ہونے والے اہلکاروں کی تصاویر کا ایک کولاج بھی جاری کیا گیا ہے تاکہ عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ یہ اہلکار اس وقت جے اے اے سی کی تحویل میں ہیں اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر نے ان اہلکاروں کے اہل خانہ کو بھی دھمکیاں دی ہیں کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ان کے پیاروں کو شہید کر دیا جائے گا۔ خاور علی شوکت کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ تنظیم کوئی پرامن گروپ نہیں بلکہ ایک پرتشدد گروہ ہے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور اداروں کو کمزور کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ریاست کمزور نہیں ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پولیس ترجمان نے عوام بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں اور انہیں ایسے عناصر سے دور رکھیں جو نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر گمراہ کن پروپیگنڈے اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے جے اے اے سی کوتبدیل شدہ صورتحال میں سخت پیغام دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اغوا کیے گئے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب جے اے اے سی نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مقامی مقننہ میں مخصوص نشستیں ختم کرنے کے مطالبات کو لے کر احتجاج شروع کیا۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران راولاکوٹ اور میرپور میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ حکومت نے اس تمام صورتحال کے پیچھے بیرونی ایجنڈے اور غیر ملکی فنڈنگ کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ حالیہ فسادات میں پولیس اور رینجرز سمیت کئی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔