Pakistan
میر رضا علی قتل کیس، سمارٹ واچ فارنزکس پر تنازع اور پی ایف ایس اے کا مطالبہ
کراچی میں مقتول کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ان کے اہل خانہ نے این سی سی آئی اے کی جانب سے سمارٹ واچ کی فارنزکس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ورثاء نے شفاف تحقیقات کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی کےتہلکہ خیز قتل کیس میں مرحوم کاروباری شخصیت میر رضا علی کے اہل خانہ نے تفتیش کے ایک نئے مرحلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتول کے خاندان اور ان کے قانونی مشیر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سمارٹ واچ کی موجودہ سطح پر کی جانے والی فارنزکس میں شواہد سے چھیڑ چھاڑ یا ان کی تبدیلی کا خطرہ موجود ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم ڈیجیٹل شئے کی جانچ کسی غیر جانبدار اور انتہائی ماہر ادارے یعنی پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کے سپرد کی جائے۔ دوسری جانب، کیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو اب تک چار خطوط ارسال کر دیے ہیں تاکہ ڈیجیٹل شواہد اور ریکارڈ کے حوالے سے قانونی اور تکنیکی نوعیت کی وضاحتیں حاصل کی جا سکیں۔ قانونی ٹیم کا ماننا ہے کہ تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل آلات کا تحفظ مقدمے کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور کسی بھی قسم کی کوتاہی سے کیس کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ تفتیشی ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس اور تحقیقاتی کمیٹی کا نیا لائحہ عمل تیزی سے طے پایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تحقیقاتی ٹیم جلد ہی اپنی دوسری باضابطہ میٹنگ منعقد کرے گی جس میں اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، تفتیش کو مزید مربوط بنانے اور زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ کا دوبارہ دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی کڑی نظر سے اوجھل نہ رہ سکے۔ مقتول کے لواحقین کا اصرار ہے کہ انصاف کے تقاضے تبھی پورے ہوں گے جب تمام ڈیجیٹل اور جسمانی شواہد کی جانچ مکمل شفافیت کے ساتھ انتہائی معتبر اداروں کے ذریعے کروائی جائے۔