Technology
لورا اور بلوٹوتھ میش سے غیر مرکزی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا طریقہ
غیر مرکزی نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجیز کی مدد سے اب افراد اور کمیونٹیز کے لیے اپنی خود کی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ ریٹیکولم جیسی جدید ٹیکنالوجیز اس شعبے میں ایک بڑا انقلاب لے کر آ رہی ہیں۔
اپنی خود کی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر (آئی ایس پی) بنانا بظاہر ایک مشکل کام معلوم ہو سکتا ہے، لیکن غیر مرکزی نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ ہی یہ افراد اور کمیونٹیز کے لیے ایک عملی آپشن بنتا جا رہا ہے۔ روایتی انٹرنیٹ کا انحصار بڑی ٹیلی کام کمپنیوں اور مرکزی انفراسٹرکچر پر ہوتا ہے، جو کہ مہنگا بھی ہے اور بعض اوقات نا قابل رسائی بھی۔ اس تبدیلی کے مرکز میں ریٹیکولم جیسی جدید ٹیکنالوجیز ہیں جو روایتی انٹرنیٹ کی حدود سے باہر جا کر کمیونیکیشن کو ممکن بناتی ہیں۔ لورا (LoRa) اور بلوٹوتھ میش جیسی ریڈیو ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے، صارفین کم لاگت اور بغیر کسی مرکزی اتھارٹی کے اپنے مقامی نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ سسٹمز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اگر مرکزی انٹرنیٹ یا بجلی کا نظام بھی معطل ہو جائے، تب بھی قریبی ڈیوائسز کے درمیان رابطہ بحال رہے۔ اس قسم کے نیٹ ورکس کو ترتیب دینے کے لیے ہارڈ ویئر کا انتخاب اور سافٹ ویئر کی کنفیگریشن بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ لورا ماڈیولز طویل فاصلے تک کم توانائی کے ساتھ ڈیٹا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ بلوٹوتھ میش قریبی فاصلے کے آلات کو آپس میں جوڑنے میں مدد کرتا ہے۔ کمیونٹی کی سطح پر ایسے پراجیکٹس نہ صرف ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اپنے مواصلاتی نظام پر مکمل کنٹرول بھی فراہم کرتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجیز مزید عام ہو رہی ہیں، ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں لوگ بڑی کمپنیوں کے محتاج رہنے کے بجائے اپنے آزاد اور محفوظ نیٹ ورکس خود استوار کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔