LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی نے دفتری جگہ کی منصوبہ بندی مشکل بنا دی، سی ای اوز کا انکشاف

News Image
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کاروباری دنیا میں دفتری جگہ کے روایتی تصور کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے ساٹھ فیصد چیف ایگزیکٹو اور چیف فنانشل افسران کا کہنا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے طویل المدتی دفتری جگہ کا تخمینہ لگانا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو اپنے کام کرنے کے انداز اور دفتری جگہ کی ضروریات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد سی ای اوز اور سی ایف اوز کا یہ ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلبے کی وجہ سے اب مستقبل میں دفتری جگہ کی ضروریات کا درست تخمینہ لگانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ کمپنیاں اب روایتی اور طویل مدتی رئیل اسٹیٹ کے معاہدوں سے گریز کرتے ہوئے لچکدار ورک اسپیس حکمت عملیوں کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے کاروباری طریقہ کار کو اتنی تیزی سے تبدیل کیا ہے کہ کمپنیاں مستقبل کے لیے روایتی دفتری عمارتوں میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہیں۔ ریموٹ ورک اور ہائبرڈ کلچر پہلے ہی دفتری ثقافت کو بدل رہے تھے، اور اب اے آئی کے نفاذ نے اس تبدیلی کو مزید مہمہ دی ہے۔ کاروباری رہنما اب ایسی جگہوں کا انتخاب کر رہے ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق گھٹایا یا بڑھایا جا سکے، تاکہ غیر ضروری مالیاتی اخراجات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر اے آئی کے نفاذ اور اس کے تجارتی اثرات کے حوالے سے بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں پیش پیش ہیں۔ اس تبدیلی کے دوران ادارے نہ صرف اپنے مالیاتی بجٹ کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں بلکہ اپنے ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مستقبل میں کارپوریٹ سیکٹر کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔