Business
بھارتی بینکنگ نظام پر تنقید، ملک کو قرض سے محروم قرار دیدیا گیا
امریکہ میں مقیم ایک کاروباری شخصیت نے بھارت کے بینکنگ اور کریڈٹ کے نظام پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے حد سے زیادہ محتاط قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بھارتی معیشت کو ترقی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں مقیم ایک معروف کاروباری شخصیت اور بانی نے بھارت کے بینکنگ اور کریڈٹ کے نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حد سے زیادہ محتاط اور کریڈٹ سے محروم قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ان کے اس بیان کے بعد کاروباری اور مالیاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا بھارتی بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرض دینے میں ضرورت سے زیادہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں بانی کا کہنا تھا کہ بھارت جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت میں نئے خیالات اور کاروباروں کو پروان چڑھانے کے لیے سرمائے کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ تاہم، روایتی بینکنگ کے سخت اصول اور سکیورٹی کی سخت شرائط نئے کاروباری افراد کے لیے قرض کا حصول انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ بینکوں کی یہ حد سے زیادہ قدامت پسندانہ پالیسی دراصل ملک کی معاشی رفتار کو سست کر رہی ہے کیونکہ بے شمار صلاحیت کے حامل افراد محض سرمائے کی کمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔
معاشی ماہرین کا اس حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بینکوں کا یہ محتاط رویہ خراب قرضوں یعنی نان پرفارمنس ایسٹس (NPAs) کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ مالیاتی نظام کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ دوسری طرف، بہت سے تکنیکی اور کاروباری ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں رسک اسیسمنٹ کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نئی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو آسانی سے فنڈنگ مل سکے۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں اسٹارٹ اپ کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور حکومت بھی خود کفالت اور صنعتی ترقی کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں، نجی اور سرکاری بینکوں پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی کریڈٹ پالیسیوں پر نظرثانی کریں تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں اور معیشت کو حقیقی معنوں میں تیز رفتار ترقی دی جا سکے۔