Technology
کرناٹک: اوبر، اولا اور ریپیڈو کو کرایہ کی خلاف ورزی پر نوٹس
کرناٹک ٹرانسپورٹ محکمہ نے ریاستی حکومت کے مقرر کردہ نرخوں سے ہٹ کر کروصول کرنے پر مقبول رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں اوبر، اولا اور ریپیڈو کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی شکایات پر سخت کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا۔
بنگلورو: کرناٹک کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے مسافروں سے ریاستی حکومت کے مقرر کردہ باضابطہ نرخوں سے ہٹ کر زیادہ کرایے وصول کرنے کی شکایات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ملک کی بڑی رائیড ہیلنگ کمپنیوں اوبر، اولاک اور ریپیڈو کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق محکمہ کو طویل عرصے سے عام شہریوں اور مسافروں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ یہ کمپنیاں اور ان سے وابستہ ڈرائیورز حکومت کی جانب سے طے شدہ فئیر اسٹرکچر پر عمل کرنے کے بجائے من مانے دام وصول کر رہے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان تمام ایگریگیٹر پلیٹ فارمز سے جواب طلب کیا ہے کہ کیوں نہ ضوابط کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ عوامی ٹرانسپورٹ اور مسافروں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سے قبل بھی کرناٹک حکومت نے آٹو رکشا اور کیب سروسز کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی تھیں تاکہ عام آدمی کو بلاجواز مالی بوجھ اور پریشانی سے بچایا جا سکے۔ محکمہ کا یہ قدم تمام مسافروں کے لیے ایک اہم ریلیف کی علامت سمجھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے نجی کیب ایگریگیٹرز کی جانب سے پیک آورز اور دیگر اوقات میں غیر قانونی طور پر زائد کرایے وصول کیے جانے پر سراپا احتجاج تھے۔
دوسری جانب، نوٹس موصول ہونے کے بعد رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ذمہ داران اس معاملے پر اندرونی مشاورت میں مصروف ہیں اور حکام کے ساتھ ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اپنا مؤقف پیش کیا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں محکمہ ٹرانسپورٹ اور ان کمپنیوں کے مابین ایک اہم میٹنگ ہوگی جس میں مسافروں کے کرایوں کے حوالے سے مزید شفافیت لانے کے لیے سخت ضابطے طے کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی بدعنوانیوں کا سدباب کیا جا سکے اور عوام کو سستا اور معیاری سفر میسر آ سکے۔