LIVE
Loading Breaking News...

جاپان کا روس کے صدر پیوٹن کے جزائر کوریل کے دورے پر احتجاج

News Image
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے متنازع جزائر کوریل کے دورے پر ٹوکیو نے ماسکو سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس دورے کے دوران روسی صدر نے وہاں بچوں کو ڈرون بنانے کی تربیت دینے کے عمل کا بھی جائزہ لیا۔
ٹوکیو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے متنازع جزائر کوریل کے دورے پر جاپان نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ روسی صدر کے اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے اس دورے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ماسکو کے سامنے باضابطہ طور پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کوریل جزائر کا یہ خطہ طویل عرصے سے ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان علاقائی تنازع کی بنیادی جڑ رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کوریل جزائر کی زنجیر میں شامل جزیرے 'اتروپ' کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران روسی صدر نے وہاں جاری مختلف تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، پیوٹن نے اس موقع پر اس بات کا خصوصی جائزہ لیا کہ جزیرے کے بچوں کو ڈرون بنانے اور ان کی پروگرامنگ کی تربیت کس انداز میں دی جا رہی ہے۔ اس سرگرمی کو خطے میں روس کی بڑھتی ہوئی عسکری و دفاعی دلچسپی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق روس اور جاپان کے باہمی تعلقات حالیہ برسوں میں اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کوئی باضابطہ امن معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے جس کی بڑی وجہ یہی متنازع جزائر ہیں۔ جاپان ان جزائر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے جنہیں وہ اپنے 'شمالی علاقے' قرار دیتا ہے، جبکہ روس ان پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی عروج پر ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد سے روس اور مغربی حلیف ملکوں بشمول جاپان کے تعلقات سخت کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد دونوں ایشیائی حریفوں کے درمیان سفارتی محاذ پر مزید تناؤ بڑھنے کی توقع ہے، اور ٹوکیو حکومت کی جانب سے اس احتجاج کے جواب میں ماسکو کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔