Pakistan
خانیوال میں غیرت کے نام پر قتل، پسند کی شادی کرنے والی خاتون جاں بحق
خانیوال میں پسند کی شادی کرنے والی ایک نو بیاہتا خاتون کو مبینہ طور پر اس کے والد نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔
خانیوال کے علاقے میں غیرت کے نام پر قتل کا ایک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پسند کی شادی کرنے والی ایک نو بیاہتا خاتون کو مبینہ طور پر اس کے اپنے سگے باپ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولہ نے کچھ عرصہ قبل اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی تھی جو کہ اس کے خاندان کو ناگوار گزری تھی۔ خاندانی ذرائع اور پولیس کے مطابق والد نے مبینہ طور پر اپنی انا کی تسکین اور نام نہاد غیرت کی خاطر اس ہولناک قدم کو اٹھایا۔ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جبکہ پولیس کو اطلاع ملتے ہی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں قانونی کارروائی جاری ہے۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے قریبی رشتہ داروں کی مدلیت میں متعلقہ تھانے میں درج کر لیا گیا ہے جس میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ دوسری جانب، پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ شادی جیسے بنیادی انسانی حق اور مرضی کے فیصلے پر اس طرح کی سفاکانہ کارروائیاں معاشرے کے پسماندہ اور فرسودہ رویوں کی عکاس ہیں۔ شہریوں اور حقوق نسواں کی تنظیموں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ اس طرح کے المناک واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔