Pakistan
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، بیرون ملک مشنز میں اوور اسٹے افسران کی نشاندہی
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بیرون ملک پاکستانی مشنز میں مدت ملازمت پوری ہونے کے باوجود قیام پذیر 46 افسران کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں کے مالی معاملات کی نگرانی کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات ایسے افسران کے خلاف سخت نوٹس لیا ہے جو اپنی مقررہ مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر بیرون ملک قیام پذیر ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران یہ اہم انکشاف سامنے آیا کہ کل 46 افسران ایسے ہیں جو مدت پوری ہونے کے بعد بھی مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے وابستہ ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے سرکاری امور اور انتظامی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو ملک کو شدید مالی چیلنجز کا سامنا ہے اور دوسری طرف سرکاری افسران قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بیرون ملک اپنے قیام کو طول دے رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا ہے بلکہ نئے اور اہل افسران کو ان خالی ہونے والی اہم اسامیاں پر تعینات کرنے کا عمل بھی تعطل کا شکار ہوتا ہے۔ پی اے سی کے چیئرمین اور اراکین کا مؤقف تھا کہ اس طرح کی بے ضابطگیاں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جانی چاہئیں اور اس معاملے میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان تمام 46 افسران کی تفصیلی فہرست اور ان کے خلاف اب تک اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ جلد از جلد کمیٹی میں پیش کریں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ مقررہ مدت سے زائد قیام کرنے والے افسران سے مبینہ طور پر اضافی مراعات کی وصولی اور ان کی فوری وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد متعلقہ وزارت اور محکمے اس معاملے پر فوری کارروائی عمل میں لائیں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی بدانتظامی کا سدباب کیا جا سکے۔