LIVE
Loading Breaking News...

سعودی ترکی پاکستان دفاعی اتحاد اور امریکی اثر و رسوخ

News Image
بھارتی سینئر سفارت کار ویدیا بھوشن سونی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی اتحاد خطے میں کم ہوتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کی واضع علامت ہے۔ اس نئے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت تینوں ممالک سیاسی اور عسکری سطح پر باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے نئے میکانزم تشکیل دے رہے ہیں۔
نئی دہلی (نکسورا نیوز) بھارتی سینئر سفارت کار ویدیا بھوشن سونی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین حالیہ دفاعی اور عسکری اتحاد خطے میں کمزور ہوتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کا واضح عکاس ہے۔ اس اتحاد نے عالمی اور علاقائی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں روایتی امریکی سیکیورٹی کی ضمانتوں پر خطے کے ممالک کا اعتماد متزلزل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ دوسری جانب، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ مککہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے دائرہ کار اور اس کی توسیع کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان سیاسی اور فوجی سطح پر باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے مضبوط میکانزم تیار کریں گے۔ انقرہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کا ترکی اور پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کا دفاعی معاہدہ دراصل امریکی سیکیورٹی گارنٹیوں کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے لیے خود کفالت اور باہمی تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف عسکری صلاحیتوں کو یکجا کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک منظرنامے پر بھی اس کے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔