World
برطانیہ کا شیڈو فلیٹ ٹینکر قبضے میں لینے کے فیصلے کا بھرپور دفاع
برطانوی حکومت نے روس کے ممکنہ ردعمل اور صدر پیوٹن کی دھمکیوں کے بعد قانون کے مطابق شیڈو فلیٹ کے جہازوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اقدام روسی تیل کی ترسیل کو محدود کرنے اور عالمی پابندیوں کو سخت کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانوی حکومت نے روس کی جانب سے آنے والی سخت دھمکیوں اور ردعمل کے باوجود اپنے اس اقدام کا بھرپور دفاع کیا ہے جس کے تحت ایک شیڈو فلیٹ ٹینکر کو قبضے میں لیا گیا تھا۔ لندن میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور میری ٹائم ضوابط کے مکمل احترام کے ساتھ اس طرح کے جہازوں کی نقل و حرکت کو ناکام بنا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ برطانوی ترجمان کے مطابق یہ اقدامات روسی معیشت پر دباؤ بڑھانے اور ان ذرائع کو مسدود کرنے کے لیے ضروری ہیں جو پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی ترسیل میں استعمال ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کریملن کی طرف سے اس کارروائی پر سخت الفاظ میں تنقید کی گئی تھی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ ماسکو کی جانب سے برطانیہ کو خبردار کیا گیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کے خطے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ اور دفاعی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر روس کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کے تمام ہتھکنڈوں کا مؤثر جواب دیتے رہیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ واقعے کے بعد برطانیہ اور روس کے درمیان پہلے ہی سے کشیدہ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری مغربی طاقتیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سمندری راستوں پر تجارتی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔