World
روس کے صدر پوتین کا دورہ کوریل جزائر: جاپان کا شدید ردعمل
جاپانی وزیراعظم نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کے متنازع بحرالکاہل کے جزائر کوریل کے دورے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ان جزائر کی ملکیت پر تنازع چلا آ رہا ہے جنہیں سوویت یونین نے 1945 میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
ٹوکیو: جاپان نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کے متنازع بحرالکاہل کے جزائر کوریل کے دورے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ جاپانی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس دورے کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ کوریل کے یہ جزائر، جنہیں روس میں جنوبی کوریل اور جاپان میں شمالی علاقے کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے دونوں ممالک کے مابین سفارتی تنازع کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ان جزائر کو دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں سوویت یونین نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، اور تب سے ٹوکیو اور ماسکو کے درمیان اس خطے کی ملکیت پر کوئی باضابطہ امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ جاپان اس پورے جزیرہ نما کو اپنی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ روس اس پر اپنے قانونی کنٹرول کا دفاع کرتا ہے۔ روسی رہنماؤں کے اس طرح کے دورے جاپانی عوام اور حکومت کے لیے انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں، اور ہر بار ٹوکیو کی جانب سے سخت سفارتی ردعمل سامنے آتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں روس اور جاپان کے درمیان یہ تازہ تناؤ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ جاپانی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر روسی سفارت خانے سے باضابطہ طور پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ملکوں کے درمیان منصفانہ حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔