World
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا نیا دفاعی اتحاد اور مشترکہ میکانزم
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی اور فوجی تعاون کے لیے باضابطہ میکانزم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انقرہ میں ترک وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس اتحاد کا مقصد خطے میں دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ مشقوں کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت باضابطہ سیاسی اور عسکری میکانزم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انقرہ میں ترک وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعرات کو دیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تینوں برادر ممالک کے درمیان اس اہم دفاعی اتحاد کے تحت سکیورٹی اور سفارتی تعاون کو نئی سمت دی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تنازعات کے تناظر میں علاقائی سکیورٹی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور دنیا بھر کی نگاہیں اسٹریٹجک امور پر لگی ہوئی ہیں۔
ترک وزارتِ دفاع کے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس نئے میکانزم میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ عسکری کمانڈرز یا آرمی چیفس شامل ہوں گے۔ اس جامع ڈھانچے کا بنیادی مقصد مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد، دفاعی صنعت میں اشتراکِ کار کو بڑھانا اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا ہے۔ اس معاہدے کو خطے میں امن اور توازن قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو دفاعی خود کفالت کی طرف بھی اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس معاہدے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک بھی اس مشترکہ چھتری کے نیچے آ جائیں۔ دریں اثنا، ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے اشارہ دیا ہے کہ مصر بھی اگلے مرحلے میں اس اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے جبکہ کویت، بحرین اور صومالیہ جیسے ممالک نے بھی اس دفاعی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا ہدف کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت کرنا نہیں۔ علاقائی سطح پر ایران کی جانب سے بھی اس معاہدے پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے جس میں علاقائی تعاون پر مبنی سکیورٹی میکانزم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سہ فریقی تعاون سے نہ صرف دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں ایک مستحکم اور مربوط دفاعی ڈھانچہ بھی تشکیل پائے گا۔