Technology
ان سپیس کے 52 غیر سرکاری اداروں کو 113 خلائی اجازت نامے جاری
بھارت کے خلائی ریگولیٹر ان سپیس نے 52 نجی اداروں کو مجموعی طور پر 113 خلائی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔ اس وقت ملک میں 440 سے زائد خلائی ٹیکنالوجی کے اسٹارٹ اپس رجسٹرڈ ہیں۔
بھارت کے خلائی ریگولیٹر 'ان سپیس' (IN-SPACe) نے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور خلائی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 52 غیر سرکاری اداروں (NGEs) کو 113 مختلف خلائی سرگرمیوں کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی جتیندر سنگھ نے اس پیش رفت کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شرکت کو تیزی سے بڑھا رہی ہے تاکہ ملکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ہندوستان بھر میں تقریباً 440 خلائی ٹیکنالوجی کے اسٹارٹ اپس رجسٹرڈ ہیں جو کہ اس شعبے میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اختراعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان نجی اداروں کا خلائی سرگرمیوں میں حصہ لینا نہ صرف روایتی خلائی تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرے گا بلکہ ملک میں ملازمت کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا اور خلائی تحقیق کو زیادہ تجارتی بنیادوں پر استوار کرے گا۔
اس کے علاوہ، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کے تجارتی بازو نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (NSIL) نے بھی اس ضمن میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اب تک این ایس آئی ایل نے مختلف صنعتوں اور اداروں کے ساتھ 118 ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے (technology transfer agreements) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا خلائی پروگرام اب صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ نجی شعبہ بھی اس میں ایک فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔