Entertainment
ڈیوڈ کرونینبرگ کی کلاسک فلم دی ফ্লাই کے چالیس سال مکمل
ہدایتکار ڈیوڈ کرونینبرگ کی شاہکار ہارر فلم 'دی ফ্লাই' نے اپنی ریلیز کے چالیس سال مکمل کر لیے ہیں اور یہ اب بھی ان کی سب سے زیادہ جذباتی اور اثر انگیز فلم مانی جاتی ہے۔ فلم میں انسانی کمزوریوں اور سائنسی جنون کو جس خوبصورتی اور ہولناکی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اس نے سنیما کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
ہدایتکار ڈیوڈ کرونینبرگ کی ہالی ووڈ سنیما میں ایک الگ پہچان ہے اور ان کی فلمیں ہمیشہ سے ہی شائقین اور نقادوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ ان کی کلاسک فلم 'دی ফ্লাই' (The Fly) نے اپنی ریلیز کے چالیس سال مکمل کر لیے ہیں اور اتنے طویل عرصے کے باوجود یہ فلم آج بھی اتنی ہی ت وتازہ اور اثر انگیز معلوم ہوتی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم نہ صرف کرونینبرگ کے فلمی کیریئر کا ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ ان کے کام میں سب سے زیادہ جذباتی گہرائی کی حامل فلم بھی ہے۔ اس فلم نے ہارر اور سائنس فکشن کے امتزاج سے سنیما کی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا تھا۔ فلم کی کہانی ایک ایسے سائنسدان کے گرد گھومتی ہے جو تجرباتی غلطی کے نتیجے میں آہستہ آہستہ ایک مکھی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس خوفناک جسمانی زوال کے ساتھ ساتھ فلم میں ایک دل کو چھو لینے والی رومانوی کہانی بھی چلتی ہے جو کہانی کو مزید دردناک بنا دیتی ہے۔ جیف گولڈ بلوم اور جینا ڈیوس کی شاندار اداکاری نے اس کہانی میں جان ڈال دی تھی اور ان کی کیمسٹری آج بھی شائقین کو یاد ہے۔ ڈیوڈ کرونینبرگ کی فلموں میں اکثر جسمانی ہیئت کی تبدیلی اور سائنسی تجربات کے تباہ کن اثرات کو موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن 'دی ফ্লাই' میں جس طرح محبت، موت اور تنہائی کے موضوعات کو چھوا گیا ہے، وہ کسی دوسری فلم میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ فلم کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ ناظرین کو صرف ڈراتی نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے کرداروں کے ساتھ ہمدردی کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ چالیس سال بعد بھی اس فلم کا اثر کم نہیں ہوا ہے اور نئی نسل کے شائقین بھی اس کے منفرد انداز اور کہانی سے اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں جتنے کہ نوے کی دہائی میں ہوئے تھے۔ اس کلاسک فلم کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی آرٹ وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور ڈیوڈ کرونینبرگ کا یہ شاہکار ہمیشہ فلمی تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا۔