LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی کارپوریٹ سیکٹر میں خواتین کی اعلیٰ قیادت کی کمی

News Image
لوک سبھا میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی سرفہرست 500 درج شدہ کمپنیوں میں خواتین کو اعلیٰ کارپوریٹ قیادت میں شدید نمائندگی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں صنفی مساوات کے حصول کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
نئی دہلی میں لوک سبھا کے اندر پیش کیے گئے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار سے یہ تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ بھارت کی سرفہرست 500 درج شدہ کمپنیوں میں خواتین کی اعلیٰ کارپوریٹ قیادت اب بھی انتہائی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان بڑی کمپنیوں میں محض نو خواتین چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور پچیس مینیجنگ ڈائریکٹرز (ایم ڈی) کے عہدوں پر فائز ہیں۔ اس انکشاف نے ملک کے کاروباری اور کارپوریٹ حلقوں میں صنفی تنوع اور مساوی مواقع کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ بحث مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں خواتین نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم کاروباری دنیا کے اعلٰی ترین فیصلہ ساز عہدوں تک ان کی رسائی تاحال محدود ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارپوریٹ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے خواتین کو اب بھی متعدد ساختی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سینئر مینجمنٹ کی سطح پر مرد و خواتین کا یہ عدم توازن اس بات کا غماز ہے کہ کمپنیوں میں نام نہاد 'گلاس سیلنگ' یا نظر نہ آنے والی رکاوٹیں اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں خواتین کو مساوی مواقع فراہم نہ کرنے سے نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ کاروباری کارکردگی اور بہترین صلاحیتوں سے بھی بھرپور استفادہ نہیں ہو پاتا۔ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جن کمپنیوں کی قیادت میں خواتین شامل ہوں، ان کی مالیاتی کارکردگی اور گورننس کا معیار اکثر بہتر ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر قانون سازوں اور کارپوریٹ گورننس کے ماہرین نے حکومت اور نجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ پالیسی کی سطح پر اصلاحات کریں تاکہ خواتین کی کارپوریٹ قیادت میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ صنفی تنوع کو فروغ دینے کے لیے شفاف بھرتی کے عمل، مینٹورشپ کے پروگرامز اور فیملی فرینڈلی پالیسیوں کا نفاذ انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان سرکاری اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد ریگولیٹری ادارے اور کارپوریٹ ادارے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے تاکہ مستقبل میں اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ممکن ہو سکے اور معیشت کے ہر شعبے میں حقیقی معنوں میں برابری کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔