Technology
میٹا کے اے آئی چشموں کیخلاف جرمنی میں پرائیویسی کے معاملے پر قانونی کارروائی
جرمن ڈیجیٹل رائٹس گروپ ہیٹ ایڈ نے میٹا کے اے آئی چشموں کے خلاف مجرمانہ شکایت درج کرا دی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیوائسز جرمنی میں نافذ العمل سخت پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
فرینکفرٹ: جرمنی میں ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک اہم تنظیم نے میٹا اور اس ٹیکنالوجی کی دیگر مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف باضابطہ طور پر مجرمانہ شکایت درج کرا دی ہے۔ یہ کارروائی میٹا کے حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس چشموں کے خلاف کی گئی ہے، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام شہریوں کی ذاتی زندگی اور رازداری کے حقوق پر حملہ ہیں۔
جرمن ڈیجیٹل رائٹس گروپ 'ہیٹ ایڈ' کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اے آئی چشمیں جرمنی اور یورپی یونین کے سخت ترین پرائیویسی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان چشموں میں نصب کیمرے اور ریکارڈنگ کے آلات اردگرد موجود افراد کی اجازت کے بغیر ان کی ویڈیوز اور تصاویر محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ عوامی مقامات پر بھی بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے جس کا صارفین کو کوئی ادراک نہیں ہوتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ شکایت عدالت میں ثابت ہو جاتی ہے تو میٹا اور اس سے منسلک دیگر کمپنیوں کو جرمنی میں اپنی اس پراڈکٹ کے حوالے سے شدید قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر ان پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اے آئی چشموں کی ترویج کے ساتھ ہی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمن گروپ کا یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یورپ میں صارفین کے ڈیٹا اور ان کی نجی زندگی کے تحفظ کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے، اور کمپنیاں اب نئے قوانین کے دائرہ کار سے بچ نہیں سکتیں۔