Technology
زوم ایپ میں خطرناک سیکیورٹی بگ، اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز خطرے میں
ماہرینِ سیکیورٹی نے ویڈیو کانفرنسنگ ایپ زوم میں ایک انتہائی خطرناک بگ کا انکشاف کیا ہے جو ہیکرز کو بغیر کسی یوزر انٹرایکشن کے ڈیوائس کا کنٹرول دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خامی سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے شدید نوعیت کے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارم زوم (Zoom) میں ایک ایسا خطرناک سیکیورٹی بگ دریافت ہوا ہے جس نے صارفین اور ماہرینِ ٹیکنالوجی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس خطرناک خامی کی مدد سے کوئی بھی بدنیتی پر مبنی شریکِ میٹنگ کسی دوسرے شخص کی اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائس پر دور بیٹھے مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے لیے متاثرہ صارف کو کسی بھی قسم کا کوئی بٹن دبانے یا لنک پر کلک کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ سیکیورٹی محققین نے اس بگ کا کامیابی سے پتہ لگایا اور اس کی سنگینی کو اجاگر کیا۔
محققین کے مطابق یہ خامی زوم کے اینوٹیشن (Annotation) فیچر میں موجود ہے، جو عام طور پر میٹنگ کے دوران اسکرین پر لکیریں کھینچنے یا نوٹس لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہیکرز اس فیچر کی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر صارف کی اجازت یا کسی قسم کے انٹرایکشن کے آلات میں گھس سکتے ہیں اور ریموٹ ٹیک اوور انجام دے سکتے ہیں۔ اس قسم کے حملے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ صارف کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کی ڈیوائس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیوں نے اس انکشاف کے بعد زوم کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں اور کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس خامی کا سدباب کرے تاکہ کروڑوں صارفین کے ڈیٹا اور پرائیویسی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس طرح کے سیکیورٹی مسائل ڈیجیٹل مواصلات پر صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور آن لائن میٹنگز کے دوران سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کرنے کی اشد ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
زوم انتظامیہ کی جانب سے اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر ایک سیکیورٹی پچ جاری کی جائے گی تاکہ اس بگ کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی زوم ایپ کو فوری طور پر تازہ ترین ورژن میں اپ ڈیٹ کریں تاکہ اس نوعیت کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری میٹنگز اور نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجی جانے والی دعوتوں سے گریز کیا جائے۔