LIVE
Loading Breaking News...

طالبان کی جانب سے خواتین اور بچوں کے حقوق کے چھ کارکنان گرفتار

News Image
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے چھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس واقعے سے افغانستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی صورتحال پر گہرے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے ایک تشویشناک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک ادارے کے کم از کم چھ ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی افغانستان میں پہلے سے ہی انتہائی محدود ہوتی ہوئی سول سوسائٹی کی آزادیوں کے تناظر میں ایک اور بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ حقوق نسواں اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے مقامی اداروں کے لیے اس طرح کے اقدامات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، حراست میں لیے جانے والے افراد ایک ایسے فلاحی اور حقوق کے گروپ سے وابستہ تھے جو افغان معاشرے میں خواتین اور بچوں کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لیے کوشاں تھا۔ تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس گرفتاری کی وجوہات یا ان افراد کے موجودہ مقام کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ اگست 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریاں دراصل اس پالیسی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد ہر اس آواز کو دبانا ہے جو خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں نے طالبان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیر حراست تمام کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں۔