LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ترکیہ میں خفیہ طیارہ تبدیلی کا واقعہ اور ایرانی خطرہ

News Image
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ترکیہ میں ایک خفیہ طیارے کی تبدیلی کی تھی۔ اس کارروائی کے دوران ان کی کابینہ کے اراکین کو دھوکہ دینے کے لیے ایک دوسرے جہاز پر رکھا گیا تھا۔
واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سکیورٹی کو درپیش ایک سنگین ایرانی خطرے سے بچنے کے لیے ترکیہ میں ایک خفیہ حکمت عملی کے تحت طیارہ تبدیل کیا تھا۔ عوامی سطح پر دیے جانے والے بیانات سے ہٹ کر اس خفیہ پرواز کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا عمل انتہائی رازداری کے ساتھ انجام پایا تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس دوران ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام ایک دوسرے طیارے میں سوار رہے جو کہ دراصل ایک دھوکہ یا ڈیکوئے (decoy) کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ مبینہ خطرات کی توجہ اصل ہدف سے ہٹائی جا سکے۔ صدر کے پرسکون اور خفیہ اخراج کے بعد اس دھوکے باز طیارے کو اپنی منزل کی طرف روانہ کیا گیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک الگ اور خفیہ جہاز پر سفر کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایک قابل اعتبار میزائل خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا جس کے بعد سکیورٹی حکام نے انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوائی اڈے پر طیارے کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ خفیہ پرواز اور جہاز کی تبدیلی سیکرٹ سروس کی سخت ہدایات کے تحت عمل میں آئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جس طیارے کو آخر کار استعمال کیا گیا، اس پر بظاہر زیادہ خطرات منڈلا رہے تھے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی پروٹوکولز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی صلاحیتوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ ترین شخصیات کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اس قسم کی چالیں اور حکمت عملی اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال نے جہاں ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کیا ہے، وہیں سیکرٹ سروس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔