LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ڈسکو کی نجکاری، خریداروں کے ڈالر ریٹرن کے مطالبات

News Image
پاکستان میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یعنی ڈسکو کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے جہاں سرمایہ کاروں اور خریداروں نے ڈالر کی بنیاد پر منافع اور حکومتی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ سیمنٹ سیکٹر سمیت مختلف بڑے کاروباری ادارے اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکو کی نجکاری کے عمل کے دوران ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں اس عمل میں حصہ لینے والے ممکنہ خریداروں نے حکومت سے ڈالر میں منافع اور انتہائی مضبوط مالیاتی ضمانتوں کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملک کے توانائی کے شعبے میں جاری اس نجکاری مہم کے تحت سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ اور یقینی منافع کے لیے فریم ورک چاہتے ہیں۔ معروف کاروباری اداروں بالخصوص سیمنٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت دیگر ڈسکو کی نجکاری کی دوڑ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور وہ اس عمل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر اس وقت شدید مالیاتی چیلنجز سے دوچار ہے اور نجکاری کا یہ عمل بعض تکنیکی اور پالیسی سطح کے نقائص کی وجہ سے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں گرڈز کو جدید اور ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے، وہیں پاکستان میں روایتی نظام کی نجکاری پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد ان تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تاکہ گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور پاور سیکٹر کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ خریداروں کی جانب سے ڈالر میں ریٹرن اور پختہ حکومتی ضمانتوں کے مطالبات پر حتمی فیصلے کے بعد ہی نجکاری کے اس مرحلے کی اصل کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکے گا کیونکہ حکومت کے لیے ایک ایسا توازن قائم کرنا ضروری ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے بھی پرکشش ہو اور ملکی معیشت کے مفاد میں بھی ہو۔