Business
زیرو آورز کنٹریکٹس کریک ڈاؤن: برطانوی کمپنیوں کو 2.9 ارب پاؤنڈز تک نقصان
برطانوی حکومت کی نئی روزگار بل کی رپورٹس کے مطابق زیرو آورز کنٹریکٹس پر پابندی یا سخت اقدامات سے کاروباروں کو بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس پالیسی سے کاروباری اداروں کو سالانہ تقریباً 2.9 ارب پاؤنڈز تک کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی حکومت کے روزگار کے حقوق سے متعلق بل (Employment Rights Bill) کے تحت زیرو آورز کنٹریکٹس کے خلاف مجوزہ کریک ڈاؤن کے حوالے سے نئی سرکاری تحقیقات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق اس اقدام سے کاروباری اداروں کو سالانہ 2.9 ارب برطانوی پاؤنڈز تک کا اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور کاروباری حلقوں کے درمیان مزدوروں کے حقوق اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنے پر بحث جاری ہے۔
سرکاری تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ زیرو آورز کنٹریکٹس کے خاتمے یا ان میں سخت ترامیم کی وجہ سے آجروں کو افرادی قوت کے انتظام میں نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت سی صنعتیں خاص طور پر ریٹیل، ہاسپٹلٹی اور کیئر سیکٹرز اس قسم کے معاہدوں پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں تاکہ طلب کے مطابق اپنے عملے کو ایڈجسٹ کر سکیں۔ ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد کمپنیوں کو زیادہ باقاعدہ ملازمتیں فراہم کرنا ہوں گی، جس سے ان کے انتظامی اور تنخواہوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب، لیبر پارٹی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کا مقصد کارکنوں کو استحصال سے بچانا اور انہیں ملازمت کا بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے ملازمین کی کارکردگی اور ذہنی سکون میں بہتری آئے گی، جو بالآخر معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ تاہم، کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے سخت قوانین سے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے یا ملازمتیں کم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔