World
یوروویژن نئے قوانین: جنگ زدہ ممالک میزبانی سے محروم
یوروویژن نے جنگ میں ملوث ممالک کے مقابلے کی میزبانی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اصول کے بعد اسرائیل سمیت دیگر ممالک مقابلے میں حصہ تو لے سکیں گے لیکن میزبانی نہیں کر پائیں گے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ موسیقی کے مقابلے یوروویژن (Eurovision) نے ایک اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب جنگ یا تنازعات میں ملوث کسی بھی ملک کو اس بڑے ایونٹ کی میزبانی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ حالیہ برسوں میں مقابلے کے دوران پیدا ہونے والے سیاسی تناؤ اور عوامی مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اس نئے ضابطے سے مقابلے کے بنیادی مقصد یعنی امن اور ثقافتی اتحاد کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس پابندی کا براہ راست اثر ان ممالک پر پڑے گا جو موجودہ وقت میں عسکری تنازعات کا شکار ہیں یا جنہوں نے ماضی میں کامیابی کے بعد مقابلے کی میزبانی کی تھی۔ مثال کے طور پر اسرائیل، جس نے سنہ 2019 میں اس مقابلے کی کامیاب میزبانی کی تھی، اب اس نئے قاعدے کے تحت آئندہ کبھی اس کی میزبانی کرنے کا اہل نہیں رہے گا۔ تاہم، واضح رہے کہ میزبانی کی پابندی کے باوجود متاثرہ ممالک کے فنکاروں کو مقابلے میں حصہ لینے کی مکمل اجازت ہوگی اور وہ اپنی پرفارمنس جاری رکھ سکیں گے۔ اس فیصلے کا خیرمقدم ان تمام حلقوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے یوروویژن کو سیاست اور جنگوں سے پاک رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ناقدین کا خیال تھا کہ جنگی حالات میں کسی ملک کو میزبانی دینا عالمی سطح پر غلط پیغامات کا باعث بنتا ہے۔ یوروویژن انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس متوازن لائحہ عمل سے نہ صرف مقابلے کی شفافیت برقرار رہے گی بلکہ دنیا بھر کے ناظرین سیاست سے بالاتر ہو کر محض اچھی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔