Pakistan
پاکستان اور ناروے کے درمیان دفاعی اور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق
پاکستان اور ناروے نے باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی سول اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔
پاکستان اور ناروے نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی و سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی، جو دو روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، نے آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عسکری قیادت نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو اجاگر کیا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کی تعریف کی۔
قبل ازیں، نارویجن وزیر خارجہ نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکہ اور ایران کے تنازع میں پاکستان کے مصالحتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے دنیا اور ناروے کے لیے ایک بڑی خدمت قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور پاکستان کی جانب سے اس تنازع میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنا انتہائی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمندری گزرگاہوں اور کھلے سمندروں میں تجارت کے اصولوں کا تحفظ تمام ممالک کے لیے مشترکہ مفاد کی حامل بات ہے۔
دورے کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میری ٹائم امور سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے اس بات کا اظہار کیا کہ ناروے اور پاکستان کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت دونوں معیشتوں کی حقیقی صلاحیت سے کم ہے جسے مؤثر اقدامات کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نارویجن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان اور ناروے کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی معاشرے کے کلیدی شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔