World
ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ اور امریکی صدر کا بیان
ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں امریکہ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا کہا تھا۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ مکمل طور پر ایرانی فورسز کے نظم و نسق اور نگرانی میں ہے۔
تہران: ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی فورسز کے انتظام اور کنٹرول میں ہے۔ یہ ردعمل امریکی صدر کی جانب سے سامنے آنے والے اس دعوے کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا عندیہ دیا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر سلامتی اور نگرانی کے تمام امور مقامی قوانین اور بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق احسن طریقے سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے آبنائے ہرمز دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے تیل کے بڑے ذخائر لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس خطے میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں ہے اور ایرانی بحریہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس روٹ کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی ممالک کا کردار سب سے اہم ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور مغربی ممالک اس سمندری راستے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی موجودگی پر زور دیتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ عالمی منڈی بالخصوص تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایران نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سمندری ٹریفک کو رواں دواں رکھے گا، تاہم اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔