LIVE
Loading Breaking News...

دیہی امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے طبی اوزاروں کا استعمال اور خدشات

News Image
امریکہ کے دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے پچاس ارب ڈالر کے وفاقی فنڈز سے مصنوعی ذہانت کے ٹولز خریدے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان اوزاروں کے مریضوں کی بہتری کے حوالے سے کوئی مصدقہ سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔
امریکہ میں صحت کے شعبے سے وابستہ حکام ایک ایسے وفاقی منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت پچاس ارب ڈالر کے دیہی صحت فنڈ کا ایک بڑا حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی آلات کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا اور ڈاکٹروں کے کام کا بوجھ کم کرنا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر طبی برادری کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس بات کے کوئی مضبوط اور مصدقہ سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ مہنگے اے آئی ٹولز واقعی مریضوں کی صحت کے نتائج میں بہتری لانے یا طبی دیکھ بھال کا معیار بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین صحت اور محققین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی طویل مدتی کلینیکل تحقیق اور شواہد کے اس طرح کے جدید ڈیجیٹل آلات کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں پہلے ہی بنیادی طبی ڈھانچے اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، اور اگر مصنوعی ذہانت کے یہ پروگرام توقع کے مطابق کارآمد ثابت نہ ہوئے تو اس سے نہ صرف قیمتی سرکاری فنڈز ضائع ہوں گے بلکہ مریضوں کا نظامِ صحت پر اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تجارتی مفادات کو مریضوں کی حقیقی طبی ضروریات پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، ریاستی سطح پر پالیسی سازوں کا موقف ہے کہ دیہی علاقوں میں طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ ٹولز ابتدائی تشخیص، مریضوں کے ڈیٹا کے تجزیے اور دور دراز کے علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل کے دوران مانیٹرنگ اور حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال نے ایک نئے مباحثے کو جنم دیا ہے کہ آیا حکومت کو طبی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایسے اقدامات کے لیے جلد بازی سے کام لینا چاہیے جن کے مثبت نتائج کا اب تک کوئی سائنسی ثبوت نہ ہو۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ فنڈز کا استعمال بنیادی طبی سہولیات، ڈاکٹروں کی تربیت اور ایسے اقدامات پر ہونا چاہیے جن کی افادیت ماضی میں ثابت ہو چکی ہو، تاکہ دیہی عوام کو حقیقی اور پائیدار طبی فوائد مل سکیں۔